غریب نواز

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بے کس کی پرورش و دیکھ بھال کرنے والا، غریب پرور۔ "تھے بھی وہ بڑے صوفی منش، شریف الطبع خدا ترس اور غریب نواز شخص۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٢٦٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'غریب' کے بعد فارسی مصدر 'نواختن' کا صیغہ فعل امر 'نواز' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٣٩ء کو "کلیاتِ سراج" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے کس کی پرورش و دیکھ بھال کرنے والا، غریب پرور۔ "تھے بھی وہ بڑے صوفی منش، شریف الطبع خدا ترس اور غریب نواز شخص۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٢٦٤ )